DANTON KE BARE MEN AHTIYAT

Go down

DANTON KE BARE MEN AHTIYAT

Post by Baloch on Sun Dec 28, 2008 4:57 pm

ایک سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریبا ساٹھ فیصد سے زائد افراد دانتوں میں پھنسے ریشوں کو نکالنے کے لیے ہاتھ کے قریب پڑی مختلف چیزیں یہ جانے بغیراستعمال کرتے ہیں کہ وہ دانتوں کے لیے مضر ہو سکتی ہیں۔
عموما دیکھا گیا ہے کہ لوگ دانتوں کے درمیان واقع خلامیں پھنسی کھانے پینے کی اشیاء کے ریشوں کو باہر نکالتے وقت ہاتھوں کے قریب پڑی کوئی بھی چیز استعمال کر لیتے ہیں اور اس بات کا خیال نہیں رکھتے کہ طبی یا صحت کے اعتبار سے وہ چیز دانتوں کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔
سروے میں شامل لوگوں کے مطابق ان چیزوں میں سکریو ڈرائیور، قینچیاں، کانوں میں پہننے والی بالیاں، سویاں اور چھری وغیرہ شامل ہیں۔
سروے کے دوران 23 فیصد افراد کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسی اشیاء کو کھانا ترک کردیا جس کے دانتوں میں پھنسنے کا خطرہ ہو یا جس سے مسوڑھوں یا سانس سے بدبو آنے کی شکایت بڑھ جائے۔
یہ سروے برٹش ڈینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن کی جانب سے کیا گیا تھا جس کا مقصد لوگوں کی توجہ برطانیہ میں قومی مسکرانے کا ماہ کے آغاز کی جانب مبذول کروانا ہے۔
برٹش ڈینٹل ہیلتھ فاؤنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر نائجل کارٹر کا کہنا ہے کہ لوگوں کو دانتوں میں خلال کرنے کی اہمیت کے حوالے سے تعلیم دینےکی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خلال کرنا دانتوں کی صحت مندانہ روٹین کا ایک اہم حصہ ہے۔ اور دانتوں کو برش کرنے سے قبل دن میں کم از کم ایک مرتبہ خلال کرنا ضروری ہے۔ تاہم دانتوں کے درمیان خلا کی صفائی کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے اور اس کے لیے دانتوں کے لیے خلال کرنے والا مناسب آلہ استعمال کرنا چاہیے کیونکہ کسی غیر معیاری چیز سے یا پھر تیزی سے دانتوں میں خلال کرنے سے مسوڑھوں کے عضلات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ڈاکٹر کارٹر کا کہنا ہے کہ دانتوں میں پھنسے ریشوں یا چیزوں کو باہر نکالنے کا مناسب طریقہ یہ ہے کہ دانتوں میں خلال کے لیے لکڑی سے بنی ڈنڈیاں (سٹک) استمعال کی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کاک ٹیل سٹک دانتوں کے لیے مضر ہو سکتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض افراد کے نزدیک سکریو ڈرائیور کی مدد سے دانتوں میں پھنسی چیزیں نکالنے کا خیال ایک لمحے کے لیےحیران کن ہو سکتا ہے لیکن حقیقیت میں یہ انتہائی پریشانی کی بات ہے کہ بہت سے لوگ بلا سوچے سجھے ہاتھ کے نزدیک پڑی چیزیں اس مقصد کے لیے استمعال کر لیتے ہیں۔
سروے میں شامل دیگر لوگوں نے بتایا کہ وہ دانتوں کے درمیان پھنسی چیزوں کو نکالنے کے لیے چابیاں، پیپر کلپ، ماچس کی تیلی، پینسل کارڈز اور کانٹے تک استعمال کرلیتے ہیں۔
avatar
Baloch
Super Moderators
Super Moderators

Male Number of posts : 261
Age : 34
Location : Khairpur
Registration date : 16.11.2008

View user profile

Back to top Go down

Re: DANTON KE BARE MEN AHTIYAT

Post by tanbukhari on Mon Dec 29, 2008 12:06 pm

Bohat aham maslay ki taraf apnay roshni dali hai.
Baloch bhai bohat achhi post hai . or yeh to hum sab ka masla hai.
avatar
tanbukhari
Co-Admin
Co-Admin

Male Number of posts : 834
Age : 29
Location : Lahore
Registration date : 09.09.2008

View user profile http://urdu-pak.co.cc

Back to top Go down

Re: DANTON KE BARE MEN AHTIYAT

Post by Gulzar on Mon Dec 29, 2008 6:19 pm

ap sahi keh rahe ho bhai.............baloch bhai k sub posts karaamad hoty hain...

Gulzar
Super Moderators
Super Moderators

Male Number of posts : 728
Age : 34
Location : Pakistan
Registration date : 11.09.2008

View user profile

Back to top Go down

Re: DANTON KE BARE MEN AHTIYAT

Post by Sponsored content


Sponsored content


Back to top Go down

Back to top


 
Permissions in this forum:
You cannot reply to topics in this forum